EhtesabTV | ہر لمحہ باخبر

ehtesab news panama issue report

panama case media talk abid shair ali

panama issue ppp press conference

پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو رواں برس 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔

فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔

فیصلے کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے

عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا نمائندہ شامل کیا جائے۔

نورین نے داعش سے تعلقات کےبارے میں دوست کو بتایا تھا، پولیس

حیدرآباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عرفان علی بلوچ کا دعویٰ ہے کہ 2 ماہ قبل اپنے گھر سے پراسرار طور پر غائب ہونے والی لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری نے عسکریت پسند تنظیم داعش سے اپنے تعلقات سے متعلق اپنی بچپن کی دوست کو آگاہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ جمعہ (14 اپریل) کو لاہور میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر چھاپے کے دوران نورین لغاری کو حراست میں لیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی حیدرآباد نے بتایا، ‘نورین کی دوست کا کہنا ہے کہ اس نے 10 فروری کو حیدرآباد سے روانہ ہونے سے 10 دن قبل اسے بتایا تھا کہ وہ داعش سے رابطے میں ہے اور جہاد کا حصہ بننا چاہتی ہے’۔

عرفان علی بلوچ نے ڈان سے گفتگو میں بتایا، ’میں نورین کی سہیلی کا نام نہیں بتاسکتا کیونکہ اب وہ دباؤ کا شکار ہوگئی ہوگی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نورین کی سہیلیاں اور کالج و یونیورسٹی میں اس کے اساتذہ نے پولیس کو بتایا کہ نورین ان کے ساتھ ’جہاد‘ کے حوالے سے بات کیا کرتی تھی، ’وہ ان کا دھیان شام اور افغانستان کی صورتحال کی جانب مبذول کروایا کرتی اور اس بات پر زور دیتی تھی کہ ہمیں جہاد کا حصہ بننا چاہیئے‘۔

ایس ایس پی نے کہا کہ نورین کے والد پروفیسر عبدالجبار لغاری کو جب بتایا گیا تھا کہ ان کی بیٹی کا رجحان انتہاپسندی کی جانب ہے لیکن انہوں نے اس بات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

مشعال کے قتل کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

قومی اسمبلی میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں گستاخی کے الزام پر تشدد سے مشعال خان کے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پرمنظور کرلی گئی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے مشعال خان کے قتل کے خلاف قرارداد کا متن تیار کیا تاہم وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قرارداد ایوان میں پیش کی جس کی تمام جماعتوں نے حمایت کی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ذمہ داران اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

قومی اسمبلی کی قراداد میں مشعال خان قتل میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 13 اپریل کو عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ کے تشدد سے قتل ہونے والے مشعال اوران کے دودوستوں عبداللہ اور زبیر پر توہین رسالت کا الزام تھا تاہم گزشتہ روز انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا صلاح الدین محسوس نے پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ پولیس کو اس حوالے سے ٹھوس شواہد نہیں ملے۔

پولیس نے ابتدائی طورپر 20 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا تھا بعد ازاں کہا گیا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے نشاندہی کے بعد مزید ملزمان کو بھی ایف آئی آر میں شامل کیا جائے گا جبکہ گرفتار ملزمان کی تعداد 25 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

عبداللہ نے عدالت میں اپنے بیان میں تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشعال نے کوئی گستاخی نہیں کی۔

دوسری جانب گرفتار ملزم وجاحت نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ انھیں یونیورسٹی کی انتظامیہ نے مشعال کے خلاف تقریر کرنے کا کہا تھا جس کے بعد انھوں نے تقریرکی اور طلبہ مشتعل ہوگئے۔

وجاہت نے کہا کہ ’اگر میں اس وقت بیان نہ دیتا تو اکٹھے ہونے والے طلبا واپس چلے جاتے، ‏میرے بیان کے بعد طلبا مشتعل ہوگئے اور بلوہ کرکے مشعال کو قتل اور عبداللہ کو زخمی کردیا جس پر مجھے پشیمانی ہے، جبکہ مشعال اور دیگر کا معاملہ پولیس کو سونپا جانا چاہیئے تھا اور قانون کے مطابق تمام کارروائی ہونی چاہیئے تھی۔

واٹس ایپ صارفین کا درد سر ختم ہونے کے قریب

دنیا کی مقبول ترین میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ اب صارفین کا ایک بڑا دردِ سر کم کرنے والی ہے۔

جیسا کہ آپ کو علم ہوگا کہ واٹس ایپ اکاﺅنٹ مخصوص فون نمبر سے جڑا ہوتا ہے اور فون نمبر تبدیل کرنا بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

صارفین کو اپنے درجنوں دوستوں کو نئے نمبر پر ایڈ کرنا ہوتا ہے یا پرانے نمبر پر ایک گروپ چیٹ تشکیل دے کر اپنے نمبر کی تبدیلی کا اعلان واٹس ایپ کے براڈ کاسٹ فیچر کے ذریعے کرنا پڑتا ہے۔

تاہم اب واٹس ایپ ‘چینج نمبر’ فیچر کو بِیٹا ورژن میں آزما رہی ہے۔

اس فیچر کے ذریعے صارفین کو اپنے دوستوں کو فون نمبر تبدیل کرنے پر نوٹیفکیشن کے ذریعے آگاہ کرنے کی سہولت مل سکے گی۔

صارفین تمام دوستوں یا منتخب افراد کو اس خبر سے آگاہ کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔

یہ فیچر ایک ٹوئٹر اکاﺅنٹ @WABetaInfo نے بِیٹا ورژن میں دیکھا اور اسے ونڈوز فون میں آزمایا جارہا ہے۔

چونکہ ابھی یہ بِیٹا ورژن میں ہے تو ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کب تک صارفین کو دستیاب ہوگا۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ کسی میسج کو بھیجنے کے بعد اسے واپس یا اَن سینڈ کرنے کے فیچر پر کام کررہی ہے جس سے صارفین ایسے پیغامات کو ڈیلیٹ کرسکیں گے جو وہ غلطی سے کسی دوسرے فرد کو سینڈ کرچکے ہوں گے۔

اب واٹس ایپ نے اس فیچر کی آزمائش بھی نئے بیٹا ورژن میں شروع کردی ہے۔

اور اچھی خبر یہ ہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کو 5 منٹ کا وقت دے رہی ہے جس کے دوران بھیجے جانے والے پیغامات کو ڈیلیٹ کرکے شرمندگی سے بچا جاسکتا ہے۔

تاہم 5 منٹ بعد اس پیغام کو ڈیلیٹ نہیں کیا جاسکے گا۔

اسی طرح بیٹا ورڑن میں ایک اور فیچر کی آزمائش بھی کی جارہی ہے جس سے پیغامات کے ٹیکسٹ کو فارمیٹ کیا جاسکتا ہے

اس وقت صارفین کو اپنے پیغامات کو فارمیٹ کرنے کے لیے مختلف کمانڈ استعمال کرنا پڑتی ہیں۔

جیسے ٹیکسٹ بولڈ کرنے کے لیے لفظ کے آگے اور پیچھے * لگانا پڑتا ہے جبکہ اٹالک کرنے کے لیے لفظ کے آگے اور پیچھے _ لگانا پڑتا ہے۔

تاہم اب کمانڈز کی بجائے واٹس ایپ میں فارمیٹ کے آپشنز دیئے جارہے ہیں اور صارفین مائیکرو سافٹ ورڈ کی طرح اب اپنے ٹیکسٹ کو بولڈ، اٹالک یا اسٹرائیک تھرو کرسکیں گے۔

‘فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنا خلاء کا باعث’

کراچی: جامعہ کراچی کے پروفیسرز کا ماننا ہے کہ ‘ایک بحث جاری ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جانا چاہیے یا نہیں، متعدد چیزیں ایسی ہیں جو اسے تبدیل کرسکتی ہیں جن میں فوج کی تعیناتی اور اس کا وہاں سے ہٹایا جانا، لیکن یہ ایک خلاء پیدا کردے گا اور یہ ایسا خلاء ہوگا جو دہشت گردوں کی جانب سے بہت جلد پُر کیا جاسکتا ہے’۔

روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر سرفراز خان نے جامعہ کراچی کے ڈپارٹمنٹ ‘انٹر نیشنل ریلیشنز’ کی جانب سے منعقد ایک سمینار میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ فاٹا تقریبا ایک خود مختار حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی وجہ سے یہ اسمگلروں، منشیات فروشوں اور طالبان سمیت دیگر کیلئے محفوظ پناہ گاہ رہا۔

انھوں نے کہا کہ اب اس پر ایک بحث ہورہی ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جانا چاہیے یا نہیں، متعدد چیزیں ایسی ہیں جو اسے تبدیل کرسکتی ہیں جن میں فوج کی تعیناتی اور اس کا وہاں سے ہٹایا جانا، لیکن یہ ایک خلاء پیدا کردے گا اور یہ ایسا خلاء ہوگا جو دہشت گردوں کی جانب سے بہت جلد پُر کیا جاسکتا ہے’۔

ڈاکٹر سرفراز خان کا کہنا تھا کہ ‘اپنے محل وقوع کے باعث فاٹا نے ہمیشہ تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے’۔

انھوں نے کہا کہ ‘افغانستان اور پاکستان کے درمیان انتہائی مختصر علاقہ ہے جو 7 پولیٹیکل ایجنسیز پر مشتمل ہے، جن میں باجوڑ، مہمند، اوکرزئی، خیبر، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں، یہ علاقہ 19 ویں صدی کے اختتام اور 20 ویں صدی کے آغاز میں برطانوی سلطنت اور روس کے درمیان ایک بفرزون تھا، یہ دونوں ممالک اس وقت کی سپر پاورز تھیں’۔

یہ بتایا گیا کہ برطانیہ نے ہندوستان کے تو بیشتر علاقوں پر قبضہ کیا اور انھیں آباد کیا تاہم فاٹا پر قابو نہ پاسکے۔

روس نے 1971 میں برطانوی سلطنت کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے سوشلزم کیلئے راستہ نکالا، جبکہ پاکستان کے قیام میں آنے کے بعد اس نے خود بھی فاٹا میں برطانوی انداز ہی اپنایا۔

پروفیسر کا کہنا تھا کہ ‘ پاکستان میں یہ بحث ہوتی آئی ہے کہ افغانستان نے ڈیورنڈ سرحد کو تسلیم نہیں کیا، کچھ کا کہنا ہے کہ افغانستان، بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی دو جنگوں میں افغانستان نے کبھی بھی مداخلت نہیں کی یا پاکستان کو مدد کی پیش کش نہیں کی’۔

انھوں نے نشاندہی کی کہ ‘تاہم یہ سچ ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کا جواز تھا کہ برطانیہ یہاں قدم نہیں جما سکا، وہاں کے لوگوں میں تعلیم اور مہارت کا فقدان ہے، ان کی فوج مختصر اور اس میں ٹریننگ اور ٹیکنالوجی کا فقدان ہے، اور اسی لیے پاکستان کی افواج اور افغانستان کی افواج میں کوئی موازنہ نہیں’۔

پی ایس پی کے دھرنے میں نوبیاہتا جوڑے کی آمد

کراچی میں پریس کلب پر پی ایس پی کے دھرنے میں نوبیاہتا جوڑے نے مصطفیٰ کمال سے ملاقات کی۔

پی ایس پی لیاقت آباد کا کارکن مزمل پارٹی چیئرمین مصطفی کمال کے دعوت میں شرکت نہ کرنے پر اپنی دلہن کے ہمراہ کراچی پریس کلب پر ہونے والے دھرنے میں ان سے ملاقات کے لئے پہنچ گیا۔

اس موقع پر دلہا مزمل کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال 13روز سے عوام کےحقوق کی خاطر دھرنے میں موجود ہیں، انہیں یقین ہے کہ وہ کامیاب ضرور ہوںگے،مصطفیٰ کمال کو دعوت دی لیکن وہ نہ آسکے تو ان سے ملنے یہاں آگیا۔

مصطفیٰ کمال نے نوبیاہتا جوڑے کو شادی کی مبارکباد دی اور دعائوں کے ساتھ روانہ کیا، اس موقع پر انیس قائم خانی بھی موجود تھے۔

Next Page